Home / urdukhabar / کیا تیندوے واقعی اسلام آباد کے گنجان آباد علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں؟

کیا تیندوے واقعی اسلام آباد کے گنجان آباد علاقوں میں داخل ہو گئے ہیں؟

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر رہائشی علاقوں میں داخل ہونے والے تیندووں کی ویڈیوز چند دنوں سے سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک تیندوے نے گھر میں گھس کر مکان کے احاطے میں پالتو کتے پر حملہ کیا۔

اس ویڈیو سے قبل دیگر اور ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں جن کے حوالے سے صارفین یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیے کہ ان ویڈیوز کا تعلق اسلام آباد کے گنجان آباد سیکٹرز جیسا کہ ای ایٹ، ڈی 12 اور ایف سکس سے ہے۔

اسلام آباد کے کئی رہائشیوں نے ٹوئٹر پر اپنے خوف کا بھی اظہار کیا۔ شرمین علی نامی ایک صارف نہ کہا کہ یہ بہت خوفناک ہے کہ تیندوے اسلام آباد کی سڑکوں پر آزاد گھوم رہے ہیں۔

شرمین علی کے علاوہ دیگر صارفین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی آیا کہ کیا یہ ویڈیوز مصدقہ ہیں بھی یا نہیں؟@isharmeenali کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہsharmeen ali@isharmeenali

Is this for real? Are there really leopards roaming around Islamabad’s streets now? That’s a tad bit scary

Embedded video

21Twitter Ads info and privacySee sharmeen ali’s other Tweets

@isharmeenali کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

بی بی سی نے اس حوالے سے محکمہ وائلڈ لائف اسلام آباد کے مینجمنٹ بورڈ کے رکن سخاوت علی سے بات کی ہے۔

سخاوت علی نے سوشل میڈیا ہر گردش کرنے والی تمام ویڈیوز کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تیندووں کی نشاندہی شہری علاقوں میں نہیں بلکہ صرف اور صرف جنگل میں ہوئی ہے۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ صارفین پرانی ویڈیوز ایڈیٹ کے بعد خوف و ہراس پھیلانے کے لیے شیئر کر دیتے ہیں۔

بی بی سی کی اپنی تحقیق کے مطابق جس ویڈیو میں ایک تیندوے کو پالتو کتے پر حملہ کرتے دیکھا گیا ہے وہ درحقیقت انڈیا کے شہر گجرات کی ہے۔

انڈین شہر گجرات کے مقامی چینیلز نے 9 اپریل کو ہونے والے اس واقعے کو خبروں کی زینت بنایا۔

خبر رساں ادارے ہندوستان ٹائمز کے مطابق گجرات میں اونا نامی رہائشی سوسائٹی کے ایک گھر میں یہ تیندوا دیوار پھلانگ کے داخل ہوا تھا۔

اسلام آباد سے اس ویڈیو کا تعلق جوڑنے پر شہر کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے بھی اس معاملے کی تردید کی۔

ایک اور ویڈیو جو سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہوئی اس میں ایک تیندوے کو سڑک کنارے دیکھا جا سکتا تھا جس کے بعد کئی صارفین نے اس علاقے کی نشاندہی اسلام آباد کے علاقے ایف سکس سے کی تھی۔@dcislamabad کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہDeputy Commissioner Islamabad@dcislamabad

Sir the video is not from Islamabad . https://twitter.com/MSharifKhattak/status/1250801737650376715 …MasoodSharif Khattak@MSharifKhattakJust received this video of a leopard jumping into a house on/near Margalla Road in Islamabad. It grabbed the dog and ran away when someone (not seen) scared it with a gun. That’s what the post read. How things seem to be becoming different. Wild life is now peeping into homes 1,815Twitter Ads info and privacy515 people are talking about this

@dcislamabad کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

بی بی سی نے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ویڈیوز سے متعلق ڈیٹا معلوم کرنے کے پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا کہ درحقیقت یہ ویڈیو مئی 2018 کی ہے اور یہ ویڈیو پاکستان کے شہر ٹیکسیلا کی ہے۔

کیا تیندوے صرف ٹوئٹر پر ہی ہیں؟

گذشتہ چند برسوں میں اسلام آباد کے نواحی علاقے جیسا کہ شاہدرہ، تلہار اور بری امام کے شمال میں واقع بستیوں سے تیندووں کے جنگلوں سے نکل کر انسانوں اور مویشیوں پر حملہ کرنے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

سخاوت علی کے مطابق پہلے یہ تاثر پایا جاتا تھا کہ سردیوں اور برفباری کے موسم میں تیندوا اپنے شکار اور خوراک کی تلاش میں بلندی سے نیچے آتا ہے، یہاں تک کہ وہ مارگلہ ہلز میں واقع ایسی آبادیوں کا بھی رخ کرتا ہے جہاں پر کبھی اس کی آماجگاہیں موجود تھیں۔

البتہ اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ کی 2017 میں ایک تحقیق سے یہ دریافت ہوا ہے کہ مارگلہ ہلز کے مقام پر تیندوے کافی عرصے سے رہ رہے ہیں اور ان کی آماجگاہیں کئی سال پرانی ہیں۔

تیندووں کی تعداد کے حوالے سے سخاوت علی کا کہنا تھا: ’اب تک تین مختلف تیندووں کو ہم کیمرے کی مدد سے دیکھ پائے ہیں مگر مصدقہ طور پر ان کی تعداد پر تبصرہ نہیں کرسکتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2017-18 کی رپورٹ میں یہ سامنے آیا تھا کہ تیندووں کے دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے چھ سے آٹھ تیندوے مارگلہ ہلز کے مقام پر پائے جاتے ہیں۔

مارگلہ ہلز پر لاک ڈاؤن کے بعد کی صورتحال

سیاحت کے حوالے سے مارگلہ ہلز کے ٹریل نہ صرف شہر کے رہایشیوں میں کافی مقبول ہیں بلکہ دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ بھی قدرتی نظاروں اور چہل قدمی کے لیے اس مقام کا دورہ کرتے ہیں۔

سخاوت علی کے مطابق لاک ڈاؤن سے قبل مارگلہ ہلز میں جمعے سے اتوار کے درمیان عمومی طور پر ڈھائی سے تین ہزار افراد روزانہ ٹریل فائیو کا دورہ کرتے تھے۔

البتہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر اس تعداد میں واضح کمی آئی ہے اور اس کے باعث تیندووں کو ٹریل فائیو کے ٹریک پر دیکھا گیا ہے۔

سخاوت علی نے کہا کہ لوگوں کو تاکید تو کی گئی ہے کہ وہ سورج غروب ہونے کے بعد مارگلہ ہلز کا رخ نہ کریں مگر پھر بھی ’اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اس کی پاسداری نہیں کرتے۔‘

مال مویشی کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے؟

سخاوت علی کا کہنا تھا کہ تیندووں کی موجودگی ماحولیاتی نظام کے لیے مفید ہے اور انسانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ تیندووں کے حملوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات عمومی طور پر انسانوں نہیں بلکہ مال مویشی کے حوالے سے ہوتی تھیں۔

محکمہ وائلڈ لائف اسلام آباد

دنیا بھر میں جنگلی حیات سیاحت کا اہم جز تصور کیا جاتا ہے مگر پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سخاوت علی کا کہنا تھا کہ لوگ یہاں انھیں مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وائلڈ لائف مینیجمنٹ کے مطابق سنہ 2018 میں ایک تیندوے کی لاش ملی تھی جسے مقامی افراد نے ہلاک کیا تھا اور ایک اندازے کے مطابق یہ لاش تقریباً 50 دن پرانی تھی۔

سخاوت علی کے مطابق اس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف اسلام آباد کے مینجمنٹ بورڈ نے حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے اور ایک آگاہی مہم کا بھی آغاز کیا۔

اس مہم کا ایک اہم حصہ ان افراد کے لیے مخصوص تھا جن کو لگتا ہے کہ ان کے مال مویشی ان تیندووں سے محفوظ نہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About khuramakram

khuramakram

یہ بھی چیک کریں

پنجاب میں مائیکرو لاک ڈاؤن! “اب صرف متاثرہ گھر بند ہوں گے

–پنجاب میں مائیکرو لاک ڈاؤن! “اب صرف متاثرہ گھر بند ہوں گے”پاکستان کے صوبہ پنجاب …

Leave a Reply