Home / urdukhabar / بجٹ 21-2020: 34 کھرب سے زائد خسارے کا بجٹ، دفاعی بجٹ میں % 11.8 فیصد کا اضافہ، ’تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا

بجٹ 21-2020: 34 کھرب سے زائد خسارے کا بجٹ، دفاعی بجٹ میں % 11.8 فیصد کا اضافہ، ’تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا

وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بجٹ تجاویز پیش کیں جس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا تاہم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی نہیں کیا گیا ہے۔

پینشن کی مد میں 470 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں رکھی گئی رقم میں ایک اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہے۔

گذشتہ سال کے مقابلے رواں مالی سال دفاعی بجٹ میں 11 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، تاہم گذشتہ برس پیش کیے جانے والے ترمیمی بجٹ میں یہ 61 ارب کا اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’تین فیصد کی امید تھی، جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی‘

سبسڈی: غریب کی مدد یا کرسی بچاؤ مہم؟

’کفایت شعاری کے معاملے میں حکومت اور فوج ساتھ کھڑے ہیں‘

بجٹ کی تقریر کے دوران حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے بینرز لہرائے گئے جن پر حکومت مخالف نعرے درج تھے جبکہ اجلاس کے دوران ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔

ملک میں ترقیاتی مقاصد کے لیے مختص پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس بجٹ کا کل تخمینہ 65 کھرب 73 ارب روپے ہے جس میں سے ایف بی آر ریوینیو 49 کھرب 63 ارب روپے ہے جبکہ غیر ٹیکس شدہ ریوینیو 16 کھرب 10 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس سال ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 49 کھرب 63 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

گذشتہ سال بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 187 ارب روپے رکھے گئے تھے جسے بڑھا کر 208 ارب روپے کر دیا گیا ہے جس میں سماجی تحفظ کے دیگر پروگرام جیسے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، پاکستان بیت المال اور دیگر محکمے شامل ہیں۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے لیے 28 کھرب 74 ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ زرعی شعبے میں ریلیف پہنچانے کے لیے اور ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

دفاعی بجٹ میں 11.8 فیصد کا اضافہ

گذشتہ برس ابتدا میں پیش کیے جانے والا دفاعی بجٹ 11 کھرب 52 ارب کا تھا جس میں اسی برس بعد میں ترمیم کر کے اسے 12 کھرب 27 ارب کر دیا گیا تھا۔

تاہم اس برس یہ رقم بڑھا کر 12 کھرب 89 ارب کر دی گئی ہے۔

اس طرح سال 20-2019 میں ابتدائی بجٹ میں مختص رقم میں یہ 11 اعشاریہ آٹھ فیصد کا اضافہ ہے۔

تعلیم اور صحت

حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے ایچ ای سی کو گذشتہ برس کے مقابلے پانچ ارب اضافے کے ساتھ 64 ارب روپے دیے گئے ہیں۔

یکساں نصاب کی تیاری، معیاری نظام، امتحانات وضع کرنے، اسمارٹ اسکولوں کا قیام، مدرسوں کی قومی دھارے میں شمولیت سے تعلیمی نظام میں بہتری لائی جائے گی، جس کے لیے رقم مختص کردی گئی ہے اور ان اصلاحات کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

حماد اظہر کا کہنا تھا کہ 21ویں صدی کے معیاری تعلیم پر پورا اترنے کے لیے تحقیق اور دیگر جدید شعبہ جات مثلاً مصنوعی زہانت، روبوٹکس، آٹومیشن اور سپیس ٹیکنالوجی کے شعبے تحقیق اور ترقی کے لیے کام کیا جاسکتا، لہٰذا تعلیم کے شعبے میں جدت اور اس حصول کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس اور دیگر آفات کی روک تھام

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے کورونا اور دیگر آفات کی وجہ سے انسانی زندگی پر ہونے والے منفی اثرات کو زائل کرنے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ترقیاتی پروگرام وضع کیا ہے جس کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اسی طرح کورونا وائرس سے متعلقہ 61 اشیا پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے جبکہ کورونا اور کینسر کی تشخیصی کٹس پر ڈیوٹی و ٹیکسز ختم کر دی گئی ہے۔

کورونا سے متعلقہ صحت عامہ کی اشیا پر سیلز ٹیکس چھوٹ میں تین ماہ کی توسیع بھی کی گئی ہے جبکہ جان بچانے والی دوا مگلمائن انٹی مونیٹی پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس ڈی پی میں مںصوبوں کی لاگت میں اضافے سے بچنے کے لیے جاری منصوبوں کے لیے 73 فیصد اور نئے مںصوبوں کے لیے 27 فیصد رقم مختص کی گی ہے۔

اس کے علاوہ طبی آلات کی خریداری، حفاظتی لباس اور طبی شعبے کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

کن چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے؟

بجٹ دستاویزات کے مطابق درآمدی سگریٹس، الیکٹرانک سگریٹس، بیڑی، سگارز اور تمباکو کی دیگر اشیا پرعائد ایف ای ڈی میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

کیفین پر مشتمل درآمد شدہ اور مقامی مشروبات پر ایف ای ڈی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی ہے۔

ساتھ ہی ڈبل کیبن پک اپ پر ایف ای ڈی کا نفاذ کیا گیا ہے اور اس پر بھی دیگر گاڑیوں کے مطابق ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مہنگائی کو 9.1 فیصد سے کم کرکے 6.5 فیصد تک لانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

اقتصادی مالی سروے 20-2019

اس سے قبل جمعرات کو اسلام آباد میں اقتصادی مالی سروے 2019-20 پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو معاشی بحران ورثے میں ملا۔

انھوں نے کہا کہ کورونا کی وبا سے قبل معاشی ترقی کی شرح تین فیصد سے بڑھنے کی امید تھی تاہم مالی سال 20-2019 میں جی ڈی پی کی شرح نمو منفی 0.4 فیصد رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال میں زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 2.67 فیصد رہی جبکہ صنعتی شعبہ متاثر ہوا اور اس میں ترقی کی شرح منفی 2.64 رہی ہے جبکہ خدمات کے شعبے میں یہ شرح منفی 3.4 فیصد ہے۔

وفاقی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان کی جانب سے آج پیش کیے جانے والے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About khuramakram

khuramakram

یہ بھی چیک کریں

پنجاب میں مائیکرو لاک ڈاؤن! “اب صرف متاثرہ گھر بند ہوں گے

–پنجاب میں مائیکرو لاک ڈاؤن! “اب صرف متاثرہ گھر بند ہوں گے”پاکستان کے صوبہ پنجاب …

Leave a Reply