Home / اہم خبریں / ایئر ایشیا کمپنی کے بانی جو ایشیا کی اگلی ’سُپر ایپ‘ بنا رہے ہیں

ایئر ایشیا کمپنی کے بانی جو ایشیا کی اگلی ’سُپر ایپ‘ بنا رہے ہیں

وہ ‘گریب، ‘گوجیک’ اور ‘وی چیٹ’ جیسی حریف ایپس کا متبادل نکالنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کے مطابق اس نئی ایپ میں کھانا منگوانے کی سہولت (فوڈ ڈیلیوری)، خریداری (آن لائن شاپنگ)، ادائیگی، تفریح اور سفر جیسے فیچرز ہوں گے۔

عالمی وبا کے اس دور میں ایئر لائن کمپنی کے مالک کی حیثیت سے وہ آمدن کے نئے ذرائع تلاش کر رہے ہیں، اس بات کے پیشِ نظر کہ ان کے کئی ہوائی جہاز اس صورتحال میں پرواز پر نہیں جاسکتے۔

دیگر ایئر لائنز کی طرح ایئر ایشیا بھی عالمی وبا سے متاثر ہوئی ہے اور اس نے اپنے 30 فیصد عملے کو برخاست کر دیا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ٹونی فرنینڈز نے کہا ہے کہ انھوں نے سفری پابندیوں کے دوران ایئر ایشیا کی ایپ کو بہتر بنانے کی کوشش میں وقت گزارا ہے اور اس کے ساتھ انھوں نے کمپنی میں ادائیگیوں کے فیچر ‘بِگ پے’ کو بھی مزید اچھا بنانے کی کوشش کی ہے۔

یہ بحران ایک طرح سے پوشیدہ نعمت بن کر سامنے آیا ہے کیونکہ اس سے ہماری توجہ مزید یہاں مرکوز ہوگئی ہے۔ ایک ایئر لائن کو چلانے میں آپ کا کافی وقت صرف ہوجاتا ہے لیکن ہمیں اپنے ڈیجیٹل کاروبار پر توجہ دینے کا موقع اور وقت ملا ہے۔’

ایئر ایشیا کے پاس اپنے ‘وسیع ڈیٹا بیس’ میں شروعات پر ہی چھ کروڑ صارفین ہیں۔

ایئر ایشیا کی ایپ میں صارفین ایک دوسرے سے پیغامات کا تبادلہ کر سکتے ہیں لیکن اب ان کا مقصد ہے کہ اسے ایک ‘سُپر ایپ’ بنا دیا جائے، جیسے سنگاپور میں گریب، انڈونیشیا میں گوجیک اور چین میں میٹوان نامی ایپش یہی کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ایئر ایشیا ہمیشہ سے ایک ڈیجیٹل کمپنی رہی ہے۔ ہم ان پہلی ایئر لائنز میں سے تھے جنھوں نے آن لائن فروخت کا کاروبار شروع کیا۔ یہ ہمارے خون میں ہے۔’

ٹونی فرنینڈز انگلینڈ کے معروف فٹبال کلب کوئنز پارک رینجرز کے بھی اہم شیئر ہولڈر ہیں۔

‘مجھے علم ہے کہ سُپر ایپ کا قیام ایک بڑا ہدف معلوم ہوتا ہے لیکن گریب اور گوجیک نے بھی اپنا سفر چھوٹی کھانے اور آمد و رفت کی ایپس سے شروع کیا تھا۔ اور اس کے علاوہ لوگوں نے اس وقت بھی سوال اٹھائے تھے جب میں ایئر ایشیا قائم کرنا چاہتا تھا۔’

ٹونی فرنینڈز کی ایئر ایشیا خطے میں سب سے بڑی بجٹ (سستی) ایئر لائن تصور کی جاتی ہے۔

موسیقی کی دنیا میں قدم

گذشتہ سال ایئر ایشیا نے یونیورسل میوزک کے ساتھ اشتراک سے ریڈ ریکارڈز کے نام سے اپنی موسیقی بنانے والی کمپنی متعارف کرائی تھی۔

اس کا مقصد جنوب مشرقی ایشیا میں نئے فنکاروں کی تلاش ہے جو مغربی لوگوں کو پسند آسکتے ہیں۔

اس کمپنی نے پہلا بڑا معاہدہ تھائی لینڈ کی پاپ سٹار جینن ویگل کے ساتھ کیا جنھیں لاکھوں لوگ پہلے سے ہی سوشل میڈیا پر فالو کرتے ہیں۔

‘اس ریکارڈ لیبل کے ساتھ ہم بہت خاص کام کرنے جا رہے ہیں۔ کوریا کے لوگوں نے ثابت کیا ہے کہ ‘کے پاپ’ کیسے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کر سکتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا میں بہت ٹیلنٹ ہے۔’

‘اس کی مدد سے ہم نوجوانوں سے تعلق قائم کرسکتے ہیں اور ہماری ایپ کے لیے اس سے کافی مواد مل جاتا ہے۔’

courtesy: bbc urdu

50% LikesVS
50% Dislikes
  • 2
    Shares
  •  
    2
    Shares
  •  
  •  
  • 2
  •  
  •  
  •  

About khuramakram

khuramakram

یہ بھی چیک کریں

کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹماٹر آپ کو معدے کے کینسرسے بچا سکتا ہے ؟

ماٹر ہمارے کھانوں میں استعمال ہونے والی بے حد عام شے ہے۔ حال ہی میں …

Leave a Reply